جسم میں شوگر ناپنے والے اسمارٹ کانٹیکٹ لینس

جنوبی کوریا کے ماہرین نے خرگوشوں کی آنکھوں پر ایسے اسمارٹ لینس لگائے ہیں جو آنکھوں کی رطوبت جذب کرکے خون میں گلوکوز کی مقدار بتاسکتے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جنوبی کوریا: کانٹیکٹ لینس کو اسمارٹ بنانے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے تاہم اب انجینیئروں نے ایک ایسا لینس بنایا ہے جو آنکھوں کی نمی سے خون میں گلوکوز کی مقدار نوٹ کرسکتا ہے۔اس ایجاد کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آنکھوں میں لگانے کے بعد نشر ہونے والی معلومات کو حاصل کرنے کےلیے بھاری اور بڑے آلات کی ضرورت نہیں رہتی اور ساتھ ہی یہ لینس پہننے میں بھی بہت آسان ہے جس میں مائیکروالیکٹرونکس سے سرکٹ بنایا گیا ہے۔جنوبی کوریا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (یواین آئی ایس ٹی) کے ماہرین نے آنکھوں کی نمی یا آنسوؤں سے خون میں شکر کی مقدار ناپنے والا کانٹیکٹ لینس بنایا ہے جس کےلیے خود سونگ کیون وان یونیورسٹی نے بھی تعاون کیا ہے۔ یہ لینس دوسروں کے مقابلے میں بہت نرم اور پہننے میں آسان ہے۔ماہرین نے کمال مہارت سے کانٹیکٹ لینس میں تین اہم اشیا شامل کی ہیں جن میں نینو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ ان میں گلوکوز ناپنے والا سینسر، وائرلیس پاور ٹرانفسر سرکٹ، اور ڈسپلے ظاہر کرنے والے پکسل ہیں۔لینس ہاتھوں ہاتھ ڈیٹا اور ریڈنگ فراہم کرتا ہے جو ایل ای ڈی پکسل پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ جیسے ہی لینس آنکھ کی رطوبت میں خون میں شکر کی زائد مقدار نوٹ کرتا ہے عین اسی لمحے ایل ای ڈی پکسل (روشنی کا ایک نقطہ) بند ہوکر مریض کو خبردار کرتا ہے۔اب تک اس لینس کو خرگوش کی آنکھوں پر آزمایا گیا ہے اور وائرلیس رابطے کے ذریعے جانور کے خون کی مقدار کو نوٹ کیا گیا۔ اس لینس کی اچھی بات یہ ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں اور اس کے دہانے پر موجود افراد کو بھی خبردار کرسکتا ہے تاکہ وہ اس مرض کا تدارک کرسکیں۔اس ایجاد سے بار بار انگلی کو سوئی سے چھیدنے اور خون کی مقدار نکال کر شوگر چیک کرنے سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ تاہم اس لینس میں مزید تبدیلی کرکے اسے آنسوؤں میں موجود دیگر بایومارکرز ناپنے کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے۔ اسمارٹ لینس دورانِ خون کو نوٹ کرکے فالج اور بلڈ پریشر سے بھی خبردار کرسکیں گے تاہم ان کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔دوسری جانب اس میں مزید سینسر لگا کر ورچوئل یا آگمینٹڈ رئیلٹی کے آلات بھی بنانا ممکن ہوں گے۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.