دبئی میں’ ٹیلی فونک طبی امداد ‘ نے بچے کی جان بچالی

ایک ماہ کے بچے کو ٹیلی فون پر ’سی پی آر‘ دے کر جان بچالی گئی۔ فوٹو : فائل  دبئی: پولیس ایمرجنسی سیل اور ایمبولینس سروس نے ٹیلی فون پر ہی سانس کی بحالی کے لیے ’سی پی آر‘ کا عمل کروا کے ایک ماہ کے بچے کی جان بچالی۔تفصیلات کے مطابق دبئی پولیس ایمرجنسی سیل کو موصول ہونے والی ٹیلی فونک کال میں ایک شخص نے بتایا کہ اس کے ایک ماہ کے بچے کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں اور رنگ پھیکا پڑتا جا رہا ہے، ہمیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے جب کہ قریب میں کوئی اسپتال بھی موجود نہیں ہے جہاں بچے کو فوری طور پر لے جایا جا سکے۔پولیس ایمرجنسی سیل نے وقت کی نزاکت کا خیال کرتے ہوئے کال ایمبولینس سروس کو منتقل کردی جہاں صحت کے لیے کام کرنے والے ایک اہلکار نے ٹیلی فون پر ہی طبی امداد دینے کو ترجیح دی اور دل کی دھڑکن اور سانس کی بحالی کے عمل ’ سی پی آر‘ کے لیے بچے کے والد کو ہدایات دینی شروع کیں جس پر عمل کرتے ہوئے ایک منٹ میں ہی بچے کی سانسیں بحال ہوگئیں۔اسی دوران پولیس ایمرجنسی سیل نے ایمبولینس روانہ کردی تھی جو بچے کی سانسیں بحال ہونے کے بعد 15 منٹ کے بعد ہی پہنچ گئی اور بچے کو اسپتال منتقل کردیا جہاں ڈاکٹرز نے طویل معائنے اور چند ضروری ٹیسٹ کے بعد بچے کی زندگی کو خطرے سے باہر بتا کر ادویات اور ہدایات کے ساتھ گھر روانہ کردیا۔ڈائریکٹر ایمبولینس سروس ڈپارٹمنٹ طالب غلام طالب نے پولیس ایمرجنسی سیل اور ایمبولینس سروس کے اہل کاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا۔ ڈائریکٹر ایمبولینس نے کہا ہے کہ ہمارے اسٹاف کا ہر رکن میڈیکل ایمرجنسی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جس کا عملی مظاہرہ اس کیس میں بھی کیا گیا اور ایک معصوم بچے کی زندگی بچالی گئی۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.