رَمُوزِ حَیات

اگر ہم نے ہر بار ایک ہی پَتھر سے ٹھوکر کھانی ہے تو ہم حیوان سے بھی بدتر ہیں۔
فوٹو: انٹرنیٹ محرومی و ناشکری، ارتقاء، محبت اور نفرت، علمیت پسندی، ہم اور ہمارا شر، کیڑے مکوڑے، بے حسی اور حساسیت، رشتے، تڑپ اور اطمینان جیسے عنوانات میں پوشیدہ رموزِ حیات… آپ کی توجہ کےلیے:1۔ محرُومی و ناشُکریکِسی چیز کا مُیَسّر نہ ہونا ہی محرُومی نہیں کہلاتامحرُومی تو یہ بھی ہے کہ پاس موجُود نعمت کا ادراک نہ ہومحرُومی تو یہ بھی ہے کہ نعمت کا ادراک ہو لیکن اُس کی قَدر نہ کی جائےجو شخص کہتا ہے میرے پاس کھونے کو کُچھ نہیں، وہ اِس دُنیا کا سب سے ناشُکرا اِنسان ہےجِس شخص کو اپنے پاس موجُود نعمتیں تلاش کرنی پڑیں، وہ اِس دُنیا کا سب سے ناشُکرا اِنسان ہےمحرُوم تو وہ ہے جس کے پاس کُچھ نہیںجبکہ اِس دُنیا میں کوئی شخص محرُوم نہیںاپنے پاس موجُود نعمتوں کو پہچانیں، یہ تنہائی میں غَور کرنے سے ہو گااپنے پاس موجُود نعمتوں کی قَدر کریں، یہ خُود سے کَمتَر کو دیکھنے سے ہو گااپنی نعمتوں میں اِضافہ کرنے کی کوشش کریں، یہ محنت اور حِکمت سے ہو گادوسروں کی نعمتوں میں اِضافے کےلیے کوشش کریں، یہ اِخلاص و قُربانی کے جَذبے سے ہو گااحساسِ محرُومی تقابل سے پیدا ہوتا ہے، حالانکہ تقابل سے عَمل کی تحریک بھی تو جَنم لے سکتی ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہےآپ بھی احساسِ محرُومی کا شکار تو نہیں؟2۔ اِرتقاءاگر ہم گُزرتی عُمر کے ساتھ اپنے طرزِ عَمل میں مَثبت تبدیلیاں نہیں لا رہے تو ہم اِنسان نہیں حیوان ہیںکیونکہ اِنسان تو خُود کو مُسَلسَل بدَلتا ہے، جبکہ حیوان پہلی سانس سے آخری سانس تک ایک ہی رَوِش پر چلتا ہےمَثبت تبدیلی یہ ہے کہ اِنسان اَپنی غَلطیوں کی نِشاندَھی کرتا جائے اور دھِیرے دھِیرے انہیں دُہرانے سے باز آ جائے، تاکہ اُس کا حال اُس کے ماضِی سے بہتر ہو اور اُس کا مُستَقبل اس کے حال سے بہتر ہونے کی اُمِید ہولیکن اگر ہم نے ہر بار ایک ہی پَتھر سے ٹھوکر کھانی ہے،بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈَسے جانا ہے اور ایک ہی حَرکت سے بار بار نُقصان اُٹھانا ہے، تو ہم حیوان نہیں بلکہ اس سے بھی بَدتر ہیں؛ کیونکہ ایسا تو حیوان بھی نہیں کرتے۔تَرقّی چاہتے ہیں تو غَلطیوں سے سبق سِیکھیں کہ غَلطیوں سے بڑا کوئی اُستاد نہیں ہوتا۔ اِس اُستاد کی قَدر کیجئے۔3۔ مُحَبّت اور نَفرَتصِرف مُحَبّت ہی قُربانی نہیں مانگتیقِیمت نَفرَت کرنے کی بھی چُکانی پَڑتی ہےمُحَبّت میں قُربانی تو لوگ خُوشی کےلیے دیتے ہیںلیکن نَفرَت کی قِیمت نَجانے کِس شوق میں اَدا کرتے ہیں؟حالانکہ نَفرت میں نہ کُچھ حاصل ہوتا ہے نہ کُچھ حاصِل ہونے کی اُمِید ہوتی ہےلہذا نَفرت کرنا چھوڑ دیجیےصِرف مُحَبّت کیجیےصِرف مُحَبّتسَب سے۔4۔ عملیت پسندیجو آپ چاہتے ہیں، وہ مُمکِن نہیںاور جو مُمکِن ہے، وہ آپ چاہتے نہیںاگر ایسا ہے تو سَمَجھ لیں کہیا آپ ہاتھ پہ ہاتھ دھَرے بیٹھے ہیں، یہ کاہلی ہےیا آپ بِلاوَجہ ضِد پَر اَڑے ہیں، یہ ہَٹ دھَرمی ہےیا کسی شدید خوَاہِش کے ہاتھوں مجبُور ہیں، یہ کمزوری ہےیا آپ قناعَت کرنے کو تیّار نہیں، یہ ناشُکری ہےیا پھر “آپ کیلیے کچھ بھی نامُمکِن نہیں” جیسے گُمراہ کُن موٹیویشنل جُملے کے سحر میں گِرفتار ہیںیہ پانچوں چیزیں آپ کو عَملیّت پسَند (practical) بننے سے روک رہی ہیںوَقت، توانائی اور وسائل بچائیں، کوئی دَرمیانی راستہ نکالیں اور آگے بڑھ جائیں کہ زِندگی ہَر لَمحہ آگے بڑھنے کا نام ہےورنہ رُکے ہوئے پانی میں بدبُو اور کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں، جبکہ غلط جگہ پر زور لگانے سے پَتھر کبھی نہیں سِرکتےنوٹ: اِس دُنیا میں واقعی سَب کُچھ مُمکِن ہے، لیکن ضرُوری نہیں کہ سب کُچھ ہمارے ہاتھوں ہی مُمکِن ہو۔5۔ ہَم اور ہمارا شَراَکثَر لوگ ہمارے شَر سے دُور بھاگتے ہیںاور ہَم سَمَجھتے ہیں کہ وہ ہَم سے بھاگ رہے ہیںنیک نِیتی کے ساتھ مَتوازَن رَویہ اِختیار کیجیے، لوگ آپ کے قَریب ہو جائیں گے۔6۔ کِیڑے مکوڑےجب دُوسرے انسانوں کو کیڑے مکوڑے سَمجھنے والا مُتکَبّر اِنسان خُود کیڑوں مکوڑوں کا رِزق بن جانے والا ہے تو تَکَبّر کیسا؟7۔ دَرد، بے حِسی اور حَساسِیتدَرد کیا ہے؟یہ محض احساس کا نام ہے، اور کُچھ نہیںحِسیں مَر جائیں تو دَرد مِٹ جاتا ہےعظیم لوگ اپنی ذات کے بارے میں بے حِس ہوتے ہیں، اور دوسروں کے بارے میں حَسّاس ہوتے ہیںجبکہ گھٹیا لوگ دوسروں کے بارے میں بے حِس ہوتے ہیں اور اپنے بارے میں حَسّاس ہوتے ہیںکیا آپ دُوسروں کے بارے میں حَسّاس ہیں؟8۔ رِشتےغَم تو تَنہا بھی کَٹ جاتے ہیں، لیکن خُوشیاں اکیلے کبھی نہیں منائی جاسکتیںہمیں بہرحال رِشتوں کی ضرُورت ہوتی ہے، خواہ ٹُوٹے پھُوٹے شِکستہ اور ناخالِص ہی کیوں نہ ہوںلہٰذا رِشتوں کی قَدر کیجیےلیکن اصُولوں اور وَقار کا سَودا کبھی نہ کیجیے، کہ یہ دونوں چیزیں غَم اور خُوشی سے بَالاتَر ہوتی ہیں۔9۔ مُجھے ہَنسی آتی ہےمُجھے ہَنسی آتی ہے جَب لوگاَپنے تَساہَل کو قَناعَت کہتے ہیںمجبُوری کو صَبر ظاہِر کرتے ہیںمَصلحَت کے نام پر بُزدلی کرتے ہیںمُفاہمَت کی آڑ میں بے غیرت بن جاتے ہیںعِزتِ نَفس بچاتے ہوئے اَنا کو تَسکِین پہنچاتے ہیںاور اَپنی اَکڑ کو خُوداعتمادی بنا کر پیش کر دیتے ہیںمُجھے ہَنسی آتی ہے اُن لوگوں پر جو زِندگی بھر خُود کو دھوکہ دیے جاتے ہیں حالانکہ دھوکہ تو دُوسروں کو دینے کی چِیز ہے۔10۔ تَڑَپ اور اِطمینانکونسا اِطمینان ڈھُونڈتے پھِرتے ہو؟وہ اِطمینان؟ جو اِنسان کوذہنی طَور پر اَپاہج بنا دیتا ہےعَملی طَور پر مَعذُور کر دیتا ہےجَذباتی طَور پر بے حِس کر دیتا ہےاور اُس کی تخلِیقی صلاحیتیں کھا جاتا ہےاَرے زِندگی تو بذاتِ خُود تَڑَپ کر تَڑَپ سے پیدا ہوتی ہے، اِس میں اِطمینان کہاں؟تُو مادِیَت میں اِطمینان کیسے پا سکتا ہے کہ وہاں تَقابل بے چین کیے رَکھتا ہےتُو تَصَوّف میں اِطمینان کیسے پا سکتا ہے کہ وہاں عِشقِ حقیقی بیقرار کیے رکھتا ہےتُمہاری گہری نِیند تُمہاری غَفلت ہےتمہارا سکون تمہاری بے مَقصدِیَت ہےاِطمینان تو صِرف زِندہ لاشوں کو ہوتا ہےاگر تم زِندہ اِنسان ہو تو تُمہیں تَڑَپنا ہو گااَپنے لیے،اَپنوں کےلیےدُوسروں کےلیے،مُلک و قَوم کےلیے،بَنِی نَوع اِنسان کےلیے،تَڑپو اگر تُم زِندہ ہو۔۔۔نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.