سعودی عرب میں گرفتار بیشتر شہزادے سمجھوتوں کے بعد رہا

ڈیل منظور نہ کرنے والے شہزادوں کو جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، فوٹو : فائل ریاض: سعودی عرب میں کرپشن  کے الزام میں گرفتار زیادہ ترشہزادوں اور امرا کو سمجھوتوں کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی حکومت نے گزشتہ برس انسداد بدعنوانی کی مہم میں گرفتار کیے گئے 200 سے زائد شہزادوں، امرا اوراعلیٰ حکام کو گرفتار کیا تھا۔ ان تمام افراد کو دارالحکومت ریاض کے مشہور کارلٹن ہوٹل میں قید کیا گیا تھا اور اس وقت سے یہ ہوٹل عام افراد کے لیے بند کردیا گیا تھا۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے بیشتر شہزادوں اور امرا کو رہا کردیا گیا ہے، ان کی رہائی حکومت سے سمجھوتوں کے تحت عمل میں آئی ہے تاہم ان سمجھوتوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب ہوٹل کو بھی 14 فروری یعنی ویلنٹائن ڈے کے دن عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔اس خبرکوبھی پڑھیں: سعودی عرب میں کرپشن الزامات میں گرفتار 2 شہزادے رہاسعودی حکام کے مطابق بدعنوانی کے الزام میں گرفتار شہزادوں اور امرا کے ساتھ مالی سمجھوتوں سے سرکاری خزانے میں  کم از کم ایک سو ارب ڈالرز آئیں گے۔اس خبرکوبھی پڑھیں: سعودی شہزادہ ولید بن طلال فائیو اسٹار ہوٹل سے جیل منتقلواضح رہے کہ جن افراد کے ساتھ سمجھوتہ نہیں ہوسکا وہ جیل منتقل کردئیے جائیں گے۔ شہزادہ الولید بن طلال بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے ساتھ سمجھوتہ نہیں ہوسکا کیونکہ ان سے سمجھوتے کے لیے جو رقم مانگی جارہی ہے وہ اس پر آمادہ نہیں ہورہے۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.