شوگر ملوں میں گنے کے ساتھ غریب کسان کی کرشنگ

شوگر مل مالکان کے مال و دولت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن گنے کا کاشتکار غریب سے غریب تر ہورہا ہے۔ (فوٹو: فائل) پاکستان چینی پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کے بعد شکر سازی، پاکستان کی دوسری بڑی صنعت ہے۔ پاکستان میں شکرسازی کے تقریباً 78 کارخانے موجود ہیں جو زیادہ تر بااثر سیاستدانوں کی ملکیت ہیں۔ شکرسازی کی صنعت سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔شکرسازی کی صنعت مکمل طور پر زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ کماد کی کاشت کےلیے کسانوں کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ گنے کی فصل حساس ہوتی ہے جسے وقت پر پانی، کھاد، مختلف اسپرے اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ گنا انسان کےلیے قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ عموماً لوگ گنے کو شکر حاصل کرنے کےلیے اگائی جانی والی فصل کے طورجانتے ہیں، لیکن شکر کے علاوہ بھی گنے سے اہم ضمنی حاصلات (بائی پروڈکٹس) حاصل کی جاتی ہیں۔شوگر ملز میں گنے کی کرشنگ سے شکر کے علاوہ شیرا یا راب (مولاسز)، پھوک (بگاس)، پرس مڈ اور راکھ حاصل ہوتے ہیں۔ ایک ٹن گنے کی کرشنگ سے 90 تا 120 کلوگرام چینی، 40 سے 50 کلوگرام تک راب، 150 سے 250 کلوگرام تک پھوک اور باقی پرس مڈ حاصل ہوتے ہیں۔ گنے کے یہ ضمنی حاصلات نہایت کارآمد ہوتے ہیں۔مولاسز (molasses) یا راب میں تقریباً 45 فیصد تک شکر موجود ہوتی ہے۔ مولاسز گہرے بھورے رنگ کا سیال مادہ ہوتا ہے جسے ادویہ سازی (جیسے کھانسی کے شربت)، گلیسرین، ایتھانول اور دیگر مختلف اقسام کےکیمیکلز کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ جانوروں کے چارے، مختلف قسم کی مٹھائیوں، بسکٹ انڈسٹری اور مشروبات کی تیاری میں بھی مولاسز کا استعمال کیا جاتا ہے؛ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی منڈی میں مولاسز کی قیمت 15,000 سے 30,000 روپے فی ٹن (یعنی 15 سے 30 روپے فی کلوگرام) ہے۔گنے کی راب کی تخمیر (فرمنٹیشن) سے ایتھانول حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک ٹن گنے سے تقریباً 85 لیٹر تک ایتھانول حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ مرکب نہایت اہمیت و افادیت کا حامل ہے۔ ایتھانول کو حیاتی ایندھن (bio-fuel) کے طور استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ یہ ماحول دوست ایندھن ہے جسے فی الحال پیٹرول (گیسولین) کے ساتھ ملا کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ایسی کاریں بھی تیار کی جاچکی ہیں جو 100 فیصد ایتھانول ایندھن پر چلتی ہیں۔ آٹو موبائل انڈسٹری میں اسے ایک اہم انقلابی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے جس سے نہ صرف رکازی ایندھنوں (فوسل فیولز) پر انسانی انحصار کم ہوگا بلکہ گلوبل وارمنگ کے مسئلے پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ عرصے بعد گنے کو چینی کے ساتھ ساتھ ایتھانول حاصل کرنے والی فصل کے طور پر بھی جانا جائے گا۔ عالمی منڈی میں ایتھانول کی قیمت 14,000 سے 25,000 روپے فی ٹن (14 سے 25 روپے فی کلوگرام) ہے۔پھوک (Bagasse) گنے کا رس نکالے جانے کے بعد باقی رہ جانے والا ریشہ (فائبر) ہے۔ اسے ایندھن کے طور پر جلا کر بجلی تیار کی جاتی ہے۔ جنگلات کی کمی کے باعث بگاس کو کارڈ بورڈ، پیپر اور فرنیچر کی صنعت میں لکڑی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ بگاس کو جانوروں کے چارے اور کیمیکلز کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں بگاس 6,000 سے 10,000 روپے فی ٹن (6 روپے سے 10 روپے فی کلوگرام) کے حساب سے فروخت ہورہا ہے۔شوگر مل مالکان ایک طرف مہنگے داموں چینی فروخت کر رہے ہیں تو دوسری طرف چینی کے ساتھ حاصل ہونے والی ضمنی مصنوعات کو فروخت کرکے بے حساب منافع کما رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ضمنی حاصلات سے حاصل ہونے والا منافع اتنا ہے کہ شوگر مل مالکان کو چینی لگ بھگ مفت ہی پڑ رہی ہے۔ لیکن، اس سب کے باوجود، کسانوں کا بدترین استحصال کیا جارہا ہے۔مختصر یہ کہ گنے کی فصل انسان کےلیے نہایت افادیت کی حامل ہے۔ کسان گنے کی صنعت کےلیے بنیادی خام مال مہیا کرتے ہیں۔ گنے کی اچھی پیداوار کےلیے کسان سخت محنت کرتے ہیں۔ کسان کی سال بھرکی محنت کا اسے مناسب صلہ ملنا چاہیے لیکن افسوس کہ شوگر مل مالکان، جو زیادہ تر حکومتی ارکان ہیں، کسانوں کے ساتھ نہایت ظلم و زیادتی کررہے ہیں۔ اس سال حکومت کی جانب سے گنے کی فی من قیمت 180 روپے (4.5 روپے فی کلوگرام یا 4500 روپے فی ٹن) مقرر کی گئی تھی؛ لیکن زیادہ تر شوگر ملوں نے کسانوں سے گنا 140 سے 160 روپے فی من (یعنی 3.5 روپے فی کلوگرام سے 4 روپے فی کلوگرام) کے حساب سے خرید کر کسانوں کا بدترین استحصال کیا۔مذکورہ بالا اعداد و شمار کے ساتھ پاکستان میں شکر کی موجودہ قیمت (68 روپے فی کلوگرام) شامل کرتے ہوئے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ شوگر ملز مالکان نے اگر سرکاری نرخ پر بھی گنا خریدا ہو، تب بھی انہوں نے ایک ٹن گنے کے عوض 4500 روپے ادا کیے۔ لیکن صرف نمایاں مدات میں ان کی آمدنی تقریباً 12245 روپے فی ٹن رہی ہوگی۔ وہ کیسے؟ خود دیکھ لیجیے:ایک ٹن گنے کی کرشنگ سے…90 کلوگرام چینی حاصل ہوتی ہے جس کی موجودہ قیمتِ فروخت 68 روپے فی کلوگرام ہے، یعنی شوگر مل کے حصے میں 6120 روپے آئیں گے؛50 کلوگرام مولاسز حاصل ہوتا ہے جس کی قیمتِ فروخت 30 روپے فی کلوگرام ہے، یعنی شوگر مل مالک 1500 روپے کمائیں گے؛250 کلوگرام پھوک حاصل ہوگا جو 10 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کرکے شوگر مل کو 2500 روپے حاصل ہوں گے؛جبکہ 85 کلوگرام ایتھانول بھی حاصل ہوگا جس کی قیمتِ فروخت 25 روپے فی کلوگرام ہے، یعنی شوگر مل مزید 2125 روپے کمائے گی۔دھیان رہے کہ یہ تمام اعداد و شمار صرف ایک ٹن گنے کےلیے ہیں جبکہ گزشتہ سال پاکستان میں گنے کی مجموعی پیداوار تقریباً 65 ملین ٹن (6.5 کروڑ ٹن) رہی۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ پاکستان کی تمام شوگر ملوں نے یہ گنا سرکاری نرخ پر (4500 روپے فی ٹن کے حساب سے) خریدا تو پاکستان کے تمام شوگر مل مالکان نے مجموعی طور پر 292,500,000,000 روپے (292 ارب اور 50 کروڑ روپے) خرچ کیے ہوں گے؛ جبکہ شکر اور اہم ضمنی حاصلات کی فروخت سے شوگر ملوں کی متوقع مجموعی آمدن 795,925,000,000 روپے (795 ارب 92 کروڑ اور 50 لاکھ روپے) بنتی ہے۔ مجموعی آمدن میں سے مجموعی اخراجات نفی کرنے پر جو رقم بچتی ہے وہ 503,425,000,000 روپے (503 ارب 42 کروڑ اور 50 لاکھ روپے) ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ شوگر مل مالکان کے مال و دولت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن گنے کا کاشتکار غریب سے غریب تر ہورہا ہے۔کسان جائیں تو کہاں جائیں؟ کسان احتجاج کریں تو پولیس اور انتظامیہ کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں؛ جبکہ سیاست دان خالی خولی بیانات دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ کسان گنے کو کم قیمت پر فروخت کرنے پرمجبور ہیں۔ اس سب کے باوجود کئی شوگر ملز کی جانب سے کسانوں کو ترسا ترسا کر رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے اور اکثر کسانوں کو پیسوں کی ادائیگی کےلیے برسوں ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ اس سال شوگر ملز میں گنے کی کرشنگ کا عمل تاخیر سے شروع کیا گیا جس سے پک کر تیار شدہ گنے کی فصل کھیت میں کھڑے کھڑے سوکھتی رہی۔ فصل خراب ہونے سے کسانوں کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے۔بے بس اور لاچار کسان اپنی سال بھر کی محنتوں کو یوں ضائع ہوتا دیکھتے ہیں تو دلبرداشتہ ہوکر اپنی کھڑی فصلیں جلادیتے ہیں یا خود کشی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں گنے کا کاشتکار سخت مایوسی کا شکار ہے۔ دوسری فصلوں مثلاً گندم اور چاول کے مقابلے میں گنے کی کاشت پر زیادہ محنت اور روپیہ خرچ ہوتے ہیں جبکہ شوگر ملز مالکان کی جانب سے گنے کے کاشتکار کے ساتھ کیے جانے والے استحصال کے باعث بیشتر کسان اب مزید گنے کی کاشت کےلیے تیار نہیں۔اگر گنے کے کسان کے ساتھ استحصال کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو پاکستان میں شکرسازی کی صنعت کو تباہی سے روکا نہیں جاسکے گا۔نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.