عالمی امن اورخوشحالی کے لیے ہرکسی کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا، انڈونیشین صدر

پاکستان اور انڈونیشیا فلسطین کی آ زادی پر یکساں موقف رکھتے ہیں، جوکوویدودو- فوٹو: فائل
اسلام آباد: انڈونیشیا کے صدر جوکوویدودو کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرح انڈونیشیا بھی عالمی امن کے لیے کوشاں ہے جب کہ عالمی امن اورخوشحالی کے لیے ہرکسی کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزرا، وزیراعظم آزادکشمیر، وزیراعلی گلگت بلتستان، وزیراعلیٰ سندھ، وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی گورنرز،غیر ملکی سفارت کار اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔ انڈونیشیا کے صدر کی ایوان میں آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر خوش آمدید کہا اور دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا  کہنا تھا کہ سب سے بڑی مسلمان آبادی والے ملک کے جمہوری طور پر منتخب صدر کی اپنے مابین موجودگی پر شاداں ہیں جب کہ دونوں اقوام گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر کا دورہ اور اس پارلیمنٹ سےان کا خطاب ہمارے لیے انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور 20 کروڑعوام کے نمائندہ کی حیثیت سے پارلیمنٹ آپ کی موجودگی پرفخرکرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہی جنوبی ایشیا میں تنازعات کا بنیادی سبب رہا ہے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پُرامن حل درکار ہے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انڈونیشین صدرجوکوویدودو نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس سے خطاب میرے لیےاعزازکی بات ہے،پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات دوستی سے بڑھ کر ہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے بھی انڈونیشیا کی آزادی کے لیے ہماری حمایت کی جب کہ انڈونیشیا میں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی بستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کا فلسطین کی آزادی پر یکساں موقف ہے، ہم بھی فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔انڈونیشین صدر کا کہنا تھا کہ ہم آہنگی، بھائی چارہ اوراتحاد ہمارانصب العین ہے اور پاکستان کی طرح انڈونیشیا بھی عالمی امن کے لیے کوشاں ہے، جب کہ عالمی امن اورخوشحالی کے لیے ہرکسی کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔  اس سے قبل انڈونیشیا کے صدر جو کو ودودو اور خاتون اول ارینہ پاکستان کے 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے جہاں نورخان ایر بیس پر صدر ممنون حسین نے معزز مہمان کا استقبال کیا، اس موقع پر انڈونیشیائی صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔انڈونیشیا کے صدر کے ہمراہ  وزرا اور کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد بھی پاکستان آیا ہے جب کہ حکومت پاکستان اس موقع پر انڈونیشیا کی جیل میں قید اورجگر کے کینسر کے مرض میں مبتلا پاکستانی شہری ذوالفقار علی کا معاملہ بھی اٹھائے گی۔واضح رہے کہ منشیات اسمگلنگ کے الزام میں پاکستانی شہری ذوالفقار علی کو انڈونیشیا میں موت کی سزا سنائی گئی تھی تاہم حکومت پاکستان کی مداخلت پر ذوالفقار کی سزا پرعملدرآمد روک دیاگیا تھا۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.