مغرب میں لوگوں کا بڑا نفسیاتی مسئلہ احساس تنہائی ہے، ڈاکٹر خالد سہیل

ماہر نفسیات، ادیب اور دانشور ڈاکٹر خالد سہیل سے ملاقات۔ فوٹو: ایکسپریس بہت کم لوگ ہیں جو اپنی شرائط پر زندگی بسر کر سکتے ہیں، کسی کا قسمت ساتھ نہیں دیتی اور کسی کی راہ میں روایات، توقعات اور اپنی کم ہمتی حائل ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے، جب وہ 20 برس کے طالب علم تھے، چار خواب دیکھے: سائیکاٹرسٹ بننا، کتابیں لکھنا، سفر کرنا اور دوست بنانا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں خوش قسمت ہوں کہ ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکا، بعض لوگ نہیں کر پاتے، لیکن میں اپنے مقصد کے حصول کے لیے بڑا یکسو رہا اور اس کے لیے میں نے بڑی محنت کی۔‘‘خالد سہیل 9 جولائی 1952ء کو پیدا ہوئے۔ بچپن پشاور اور کوہاٹ میں گزرا۔ ان کے خاندان نے تقسیم کے بعد امرتسر سے لاہور اور پھر لاہور سے پشاور ہجرت کی۔ والد نے ریاضی میں ایم ایس سی کیا اور کوہاٹ میں معلم تھے۔ وہ لاہور میں مقیم اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین سے بھی بہت متاثر تھے، جو کہ ادب اور فلسفے کے آدمی تھے۔ اس طرح والد اور چچا سے سائنس، ادب اور فلسفہ کے موضوعات میں دلچسپی ان میں بھی منتقل ہو گئی۔ اس دور میں منٹو ان کے پسندیدہ لکھاری تھے، جن کی کہانیاں انہیں سوچنے پر مجبور کرتیں۔کالج میں طلبہ کے ایک مشاعرے میں نظم ’’سرخ دائرہ‘‘ پڑھی، جس پر انہیں احمد فراز، محسن احسان اور احمد ندیم قاسمی پر مشتمل مصنفین کے پینل نے پہلے انعام کا حقدار قرار دیا۔ اس پذیرائی پر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی۔ خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد وہ سائیکاٹری کے شعبے میں آ گئے۔ اس میں رجحان کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ فرائڈ کی کتاب ’’تحلیل نفسی‘‘ سے بہت متاثر ہوئے اور انسانی دماغ میں پنہاں رازوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ عمر کے ایک حصے میں ان کے والد کو دماغی بیماری نے آن لیا اور ان کو ٹھیک ہونے میں ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔ڈاکٹر خالد سہیل نے کچھ عرصہ پشاور میں ہائوس جاب اورملازمت کی۔ تنخواہ کم ہونے کی وجہ سے ایران چلے گئے۔ وہاں ایک ڈیڑھ سال پریکٹس کے دوران کچھ رقم پس انداز کی اور 1977ء میں سائیکاٹری کے شعبے میں سپیشلائزیشن کے لیے کینیڈا چلے گئے۔ چار سال تعلیم کے بعد میموریل یونیورسٹی کینیڈا سے فیلو آف رائل کالج آف فزیشنز (FRCP) کی سند حاصل کی اور مستقل طور پر کینیڈا میں مقیم ہوگئے۔کینیڈا جانے کو وہ اپنی زندگی کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں، جہاں انہیں ایک نئی دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور اس کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ ’’پاکستان اور کینیڈا کے معاشرے میں بڑا فرق کیا ہے؟‘‘ اس کے بارے میں وہ بتاتے ہیں، ’’فرق تو بہت سے ہیں، ایک بڑا فرق یہ ہے کہ پاکستانی یا مشرقی معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام ہے۔ ہر انسان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی فیملی، والدین، بہن بھائیوں کا سہارا بنے۔ وہاں ایک آزادانہ معاشرہ ہے، جو انفرادی زندگی پر یقین رکھتا ہے۔ وہاں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع دے۔ حکومت اس سلسلے میں لوگوں کی مدد کرتی ہے۔اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ بطور نفسیاتی معالج میں دیکھتا ہوں کہ وہاں لوگ احساس تنہائی کا شکار ہیں۔‘‘ڈاکٹر خالد سہیل کہتے ہیں کہ ترقی پذیر معاشروں میں ابھی کئی لوگ ایسے ہیں جو کسی نفسیاتی عارضے کی صورت میں ماہر نفسیات سے علاج کرانے سے احتراز برتتے ہیں، کیونکہ اسے ایک ٹیبو سمجھا جاتا ہے۔ یہ رجحان بہت نقصان دہ ہے۔ ان کے بقول، ’’ جس طرح جسمانی بیماری کے علاج میں ڈاکٹر کے پاس جانے میں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی، اس طرح نفسیاتی یا دماغی عارضے کی وجہ سے نفسیاتی معالج کے پاس جانا کوئی شرم کی بات نہیں۔‘‘ انہوں نے خود اپنے مریضوں کے علاج کے لیے گرین زون فلاسفی تخلیق کی ہے، جس کی مدد سے وہ ان کے نفسیاتی مسائل کا علاج کرتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں، ’’اس میں میں نے انسانی ہمدردی اور اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت مسائل کا حل پیش کیا ہے۔ گرین زون فلسفے کا خیال ٹریفک سگنل سے جڑا ہوا ہے۔ جس طرح ٹریفک سگنل گرین، ییلو اور ریڈ ہوتے ہیں اسی طرح انسان بھی تین زونز میں زندہ رہتے ہیں۔ جب ہم خوش ہوتے ہیں تو اپنے گرین زون میں رہتے ہیں، جب تھوڑے سے ناراض ہوتے ہیں تو ییلو زون میں چلے جاتے ہیں اور جب بالکل آپے سے باہر ہو جاتے ہیں یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو ریڈ زون میں ہوتے ہیں۔ ہم مریضوں کی مدد کرتے ہیں کہ وہ پہچانیں کہ زندگی کے کون سے مسائل انہیں ییلو یا ریڈ زون میں لے جاتے ہیں اور پھر ان کی مدد کرتے ہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کرنا سیکھیں۔ اس علاج سے مریض آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ وقت گرین زون میں رہتے ہیں اور ایک خوشحال‘ صحتمند اور پر سکون زندگی گزارتے ہیں۔ میرے صرف دس فیصد مریض دوائی پر ہیں، باقی کا علاج اس تھراپی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔‘‘پاکستان میں عدم برداشت کے پروان چڑھتے کلچر کو وہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ان کے بقول،’’اس کی بنیادی وجہ یہ کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرا سچ حتمی سچ ہے، تو پھر آپ کسی دوسرے کا سچ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ آپ ساری عمر دوسرے کو قائل کرتے رہتے ہیں کہ میرا سچ مانو، یہ عدم برداشت کی بنیادی وجہ یہ ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ یکطرفہ تقریر کے بجائے صحت مند مکالمے کو فروغ دیا جائے۔ آپ کسی بھی اتھارٹی کے بجائے دلیل سے دوسرے کو قائل کریں۔ کیونکہ جب زبردستی کرتے ہیں تو خرابی آتی ہے۔ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں، آپ اختلاف رائے رکھیں، لیکن دوسرے سے اپنی الگ رائے رکھنے کا حق نہ چھینیں۔‘‘ ڈاکٹر خالد سہیل چالیس برس سے ملک سے باہر ہیں۔ کئی برسوں بعد پاکستان صرف تین ہفتوں کے لیے آنا ہوا۔ اس دوران ہم نے ان سے ملاقات کا اہتمام کر لیا۔ وہ پاکستان کو ایک مثالی معاشرہ دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں سب ایک دوسرے کابغیر کسی رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی تفریق کے برابری کی سطح پر احترام کریں۔وہ کہتے ہیں، ’’لوگ سوچتے ہیں ہمیں کیا ملے گا۔ یہ طرز فکر غلط ہے۔ اس کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم دوسروں کی کیسے خدمت اور مدد کر سکتے ہیں۔‘‘ڈاکٹر خالد سہیل اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں کہ ان کے پیشے نے بطور تخلیق کار ان کی مدد کی ہے اور انہیں اپنی کہانیوں کے موضوعات ملے ہیں۔ ’’ادب اور نفسیات دونوں سے تعلق نے مجھے ایک اچھا ادیب اور ماہر نفسیات بنانے میں مدد دی۔ میں اس اعتبار سے بھی خوش قسمت ہوں کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے دوست ہیں۔امریکا، کینیڈا، پاکستان، انڈیا اور دوسرے ملکوں کے لوگ میرے دوست ہیں، تو ان سے میں سیکھتاہوں۔ میں خود کو طالب علم سمجھتا ہوں۔ میں سیکھ رہا ہوں، میں پڑھتا ہوں، لوگوں سے ملتا ہوں اور پھر جو کچھ سیکھتا ہوں، وہ اپنے مضامین، انٹرویوز، کتابوں میں لکھ دیتا ہوں تاکہ دوسرے لوگ ان سے استفادہ کر سکیں۔‘‘ منٹو، عصمت چغتائی، فیض، فراز اور مصطفی زیدی ان کے پسندیدہ لکھاری اور شاعر ہیں۔ انہیں فلسفے سے خصوصی دلچسپی ہے۔ زندگی کے مسائل اور اس کی پیچیدگیوں کے بارے میں سوچنا اور ان کو سلجھانا اچھا لگتا ہے۔ کہتے ہیں زندگی پر غور کرتے رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے سقراط کا قول سناتے ہیں کہ Unexamined life is not worth living (بغیر پرکھی ہوئی زندگی جینے کے قابل نہیں۔)علمی و ادبی خدمات: ڈاکٹر خالد سہیل کے شعری مجموعے، افسانے، انٹرویوز، مضامین، تراجم اور مختلف نفسیاتی موضوعات سے متعلق کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ مجموعی طور پر انگریزی اور اردو تصانیف کی تعداد 30 کے قریب ہے۔ ان کی خود نوشت “The Seeker”کے نام سے چھپی ہے، جس میں انہوں نے ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کی ہے جو سچائی کی تلاش میں ہے۔ یہ ایک نئے ڈھنگ سے لکھی ہوئی بہت دلچسپ، عام فہم اور فکرانگیز کتاب ہے۔ ایک تخلیق کار کی حیثیت سے وہ اس بات کے قائل ہیں کہ لکھنے والے کا ابلاغ موثر ہونا چاہیے، اور یہ بات بالخصوص ان کی تحریروں میں واضح نظر آتی ہے۔ ان کے افسانوں پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی کی طالبہ نے ایم فل کا مقالہ لکھا۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ کینیڈا کے ہائی اسکول کے بچوں کے نصاب کی ایک کتاب میں ان کی کہانی “Island” شامل کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ایک نفسیاتی معالج کی حیثیت سے لوگوں کی خدمت کرنا اور ایک تخلیق کار کی حیثیت سے ان کو ایجوکیٹ کرنا میری ترجیح ہوتی ہے۔‘‘ ان کی تحریریں اردو مضامین کی ایک ویب سائٹ ’ہم سب‘ پر باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں۔ڈپریشن: ڈپریشن کو عام فہم زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی انسان کو کوئی چیز یا شخص بہت عزیز ہے، جس کے ساتھ جذباتی طور پر وہ بہت قریب ہے، اس کی جدائی کی وجہ سے لوگ غم زدہ اور اداس ہو جاتے ہیں۔ یہ ڈپریشن کی پہلی سٹیج ہے۔ دوسری سٹیج یہ ہے کہ اگر آپ کی فیملی میں کسی کو دماغی بیماری یا ڈپریشن کا عارضہ رہا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ اسے اس صورتحال سے نکلنے میں زیادہ عرصہ لگ جائے۔ سیریس ڈپریشن کے علاج کے تین مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ ہے دوائیوں کا، دوسرا سائیکو تھراپی اور ون ٹو ون کونسلنگ اور تیسرا مرحلہ ہے کہ ان کو زندگی کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے، ان کو ایجوکیٹ کیا جائے۔ وہ لوگ جن کے سٹینڈرڈ بہت اونچے ہوتے ہیں، ان کی توقعات زندگی سے زیادہ ہوتی ہیں، ان کی جب توقعات پوری نہ ہوں تو وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کا علاج ہے، جیسا کہ میں نے بتایا۔ میں اپنے مریضوں کو امید دلاتا ہوں کہ وہ اس مرض سے نکل آئیں گے۔روحانیت کی نفسیات: روحانیت یا روحانی تجربات کے حوالے سے زیادہ تر بات مذہبی پیراڈائم میں ہوتی ہے، جبکہ جدید تحقیق کی روشنی میں اس کا ایک نفسیاتی، دماغی یا سائنسی پہلو بھی ہے۔ سائنسی ماہرین کے مطابق ان روحانی تجربات کو ہمارے دماغ کا دایاں حصہ کنٹرول کرتا ہے، جو کہ کریٹیویٹی سے متعلق ہے۔ نیورولوجی نے ہمیں بتایا ہے کہ جب دماغ کے دائیں حصے میں ایسا کوئی روحانی تجربہ آتا ہے تو وہ اسے بائیں حصے کی طرف بھیجتا ہے، جو اسے وصول کرتا ہے، لیکن ہمارے دماغ کے بائیں حصے کا اتنا ارتقا نہیں ہوا کہ وہ سمجھے کہ یہ میرے ہی دماغ کا حصہ ہے۔ مثال کے طور پر ہم اس کمرے میں بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں، آپ کو اچانک موسیقی کی آواز آتی ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ہمسائے کے گھر سے آ رہی ہے، لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ نہیں یہ اسی گھر کا ایک اور کمرہ ہے جہاں موسیقی چل رہی ہے اور آپ کو آواز آ رہی ہے۔ تو ماہرین بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہ دماغ کا دایاں حصہ ہے جہاں ایسی چیزیں آتی ہیں اور یہ بھی آپ کے دماغ کا حصہ ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ آپ کے لاشعور کا حصہ ہے، آپ کسی چیز سے انسپائر ہوتے ہیں، پھر وہ چیز آپ کے اندر پیدا ہوتی ہے۔جنسی تعلیم: میں سمجھتا ہوں کہ عمر کے ایک خاص حصے میں جنسی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اسی طرح جب ایک جوڑے کی شادی ہوتی ہے تو اس حوالے سے بھی ان کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جنسی عمل تو فطری ہے، جس طرح جانور جنسی عمل کر لیتے ہیں، اس طرح انسان بھی کر سکتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت اور مرد کی جنسی، رومانوی ضروریات مختلف ہیں، ان کی سائیکالوجی مختلف ہے۔ جب ہم جنسی تعلیم کی بات کرتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، ایسا نہیں ہے۔ جنسی تعلیم میں صرف سیکس نہیں ہے بلکہ جینڈر بھی ہے، اس میں یہ سکھانا ہے کہ عورت، عورت بعد میں ہے پہلے وہ انسان ہے۔سو بچوں کے قاتل کا انٹرویو1999ء میں جاوید اقبال نامی شخص پر مقدمہ چلا تھا کہ اس نے سو بچوں کو قتل کیا ہے، اور جج نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے مینار پاکستان پر سولی پر چڑھایا جائے، اس کی لاش کے سو ٹکڑے کیے جائیں اور اس کو تیزاب کے ڈرمز میں پھینکا جائے۔ میں نے یہ خبر کینیڈا میں ٹی وی پر دیکھی اور مجھے خیال آیا کہ اس قاتل کا انٹرویو کرنا چاہیے۔ تاکہ میں اس کے حالات جانوں۔ ظاہر ہے وہ پیدائشی قاتل نہیں تھا۔ پھر میں نے عابد حسن منٹو کو فون کیا جو سپریم کورٹ کے معروف وکیل ہیں، اور ان کی مدد سے وزارت قانون سے انٹرویو کی اجازت حاصل کی۔ میں اس مقصد کے لیے کینیڈا سے پاکستان آیا۔ کوٹ لکھپت جیل جا کر اس سے تین گھنٹے کا انٹرویو لیا، اور پھر اس پر کتاب لکھی، مشعل نے اس کا اردو ترجمہ ’’اپنا قاتل‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس میں سیریل کلرز کی تاریخ، نفسیات، حالات اور ان کے علاج کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ جاوید اقبال سے گفتگو میں اس کے حالاتِ زندگی اور ذہنی کیفیت کے بارے میں علم ہوا۔ میں نے اس کے رشتہ داروں اور محلے والوں سے بھی انٹرویو کیے۔ میں نے جاوید اقبال کی ڈائری بھی دیکھی۔میں سزائے موت کے حق میں نہیں ہوں۔ مجرموں کی جیل میں اصلاح کرنی چاہیے یا ان کو اس لیے قید کیا جائے تاکہ ان کے شر سے بچا جا سکے۔ جب آپ کسی کو پھانسی دے دیتے ہیں تو اس کی نفسیات کو سمجھنے کاموقع کھو دیتے ہیں، جس کی مدد سے آپ مستقبل میں مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کا علاج کر سکتے ہیں۔تشدد کا استعمال ریاست کرے یا فردیہ ٹھیک نہیں۔ اس کے دوسروں پر اچھے اثرات نہیں پڑتے۔غزلتجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گیگفتگو اتنی بڑھے گی کچھ کمی رہ جائے گیاپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعدآخری سوغات میری خامشی رہ جائے گیکشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میںکاغذی اک نائو میری ذات کی رہ جائے گیحرص کے طوفان میں ڈھ جائیں گے سارے محلشہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گیچھوڑ کر مجھ کو چلے جائیں گے سارے آشناصبح دم بس ایک لڑکی اجنبی رہ جائے گیرات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیلؔ اس آس میںمیں تو بجھ جائوں گا لیکن روشنی رہ جائے گی(خالد سہیلؔ)Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.