ٹرمپ کی فلسطینی امداد بند کرنے کی دھمکی

ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت نہ کی تو وہ ان کی امداد بند کر دیں گے . فوٹو: فائل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت نہ کی تو وہ ان کی امداد بند کر دیں گے۔ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن فلسطینی حکام نے امریکی نائب صدر کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا۔واضح رہے امریکی صدر نے اس ماہ کے اوائل میں مقبوضہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ واضح رہے امریکا قبل ازیں خود یہ اعلان کر چکا ہے کہ القدس کی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطین کے مابین مذاکرات کے ذریعے کیا جائے گا مگر صدر ٹرمپ کے یکطرفہ اعلان نے صورت حال تبدیل کر دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا امریکا نے فلسطینی حکام کو لاکھوں ڈالر کی امداد دی ہے مگر انھوں نے ہمارے نائب صدر کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار کر کے امریکا کی توہین کا ارتکاب کیا ہے لہٰذا جواباً اب امریکا ان کی امداد بند کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے کہا ہم نے ان کے لیے جاری رقم رکھی ہوئی ہے مگر یہ رقم اس وقت تک انھیں نہیں دی جائے گی جب تک وہ میز پر بیٹھ کر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیارنہیں ہوتے‘ امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کی ترقی کے لیے اقوام متحدہ کی وساطت سے جو امداد دینا چاہتے ہیں اس میں سے آدھی روک لی گئی ہے۔ ادھر فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اعلان کر کے ٹرمپ نے ہمارے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا ایک دیانتدار مذاکرات کار ثابت نہیں ہوا لہٰذا آیندہ بھی امریکا کی وساطت سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ فلسطینی مشرقی القدس کو مستقبل میں فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں مگر ٹرمپ کا یکطرفہ اعلان ہمارے لیے ہر گز قابل قبول نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ اسرائیل کی حمایت میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ فلسطین کو دبانے کی کھلی دھمکی دے رہے ہیں‘ ان کے اس اقدام سے مشرق وسطیٰ کے حالات بہتر نہیں بلکہ مزید خراب ہوں گے۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.