پریانکا چوپڑا کی ’’بے واچ‘‘ بدترین فلم کے لئے نامزد

بے واچ کے علاوہ دی ممی، ٹرانسفارمر اور ففٹی شیڈز ڈارکر بھی بدترین فلموں کیلئے نامزد ہیں؛ فوٹوفائل لاس اینجلس: بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا میں شہ سرخیوں کی زینت بننے والی اداکارہ دپیکا پڈوکون کی ہالی ووڈ فلم ’’بے واچ‘‘ 2017 کی بدترین فلم کے لیے نامزد ہوگئی ہے۔اداکارہ پریانکا چوپڑا کا شمار خوش قسمت ترین اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی محنت کے بل پرنا صرف بالی ووڈ میں اعلیٰ مقام حاصل کیا بلکہ اپنی خوبصورتی اور بہترین اداکارانہ صلاحیتوں کے باعث ہالی ووڈ میں بھی نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ویسے تو پریانکا چوپڑا نے 2015 میں ٹی وی سیریز’’کوانٹیکو‘‘کے ذریعے ہالی ووڈ میں قدم رکھا تھا تاہم گزشتہ برس 2017 میں انہوں نے پہلی ہالی ووڈ فلم’’بے واچ‘‘میں کام کیا۔اس خبرکوبھی پڑھیں: ’’بے واچ‘‘کا مرکزی کردار مرد کے لیے لکھا گیاتھا پریانکا کی ہالی ووڈ میں کام کرنے کی خبر پورے بھارت میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور میڈیا حلقوں کی جانب سے ان کی کامیابی پر بے تحاشہ تعریف کی گئی۔ تاہم ریلیز سے قبل’’بے واچ‘‘کی جتنی تعریف کی جارہی تھی ریلیز کے بعد یہ فلم ’’اونچی دوکان، پھیکا پکوان‘‘ ثابت ہوئی اور باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوگئی۔ بات صرف ناکامی کی ہوتی تو ٹھیک تھا تاہم شائقین کی جانب سے اس فلم پر اتنا بُرا ردعمل سامنے آیا ہے کہ اسے گولڈن رسبیری ایوارڈز 2017 کی بدترین فلم کے لیے نامزد کردیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق 38 ویں گولڈن رسبیری ایوارڈ (رازی ایوارڈ)کی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے جس میں  سال کی سب سے بدترین فلموں کی کیٹیگری میں پریانکا چوپڑا کی فلم ’’بے واچ‘‘ بھی شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق  اسے بدترین ری میک کے لیے اس کیٹیگری میں نامزد کیا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ’’بے واچ‘‘ کے علاوہ اس کیٹیگری میں ہالی ووڈ کی بڑی بڑی فلمیں ’’ٹرانسفارمر: دی لاسٹ نائٹ‘‘، ہالی ووڈ کنگ ٹام کروز کی فلم’’دی ممی‘‘اور’’ففٹی شیڈز ڈارکر‘‘بھی بدترین فلموں کے لیے نامزد ہوئی ہیں۔اس خبرکوبھی پڑھیں: پریانکا چوپڑا کا ناکامی کا سفر شروعواضح رہے کہ فلم ’’بے واچ‘‘ دراصل 1989 کی مشہور ٹی وی سیریز’’بے واچ‘‘ کا سیکوئل ہے۔ فلم میں پریانکا چوپڑا نے منفی کردار ادا کیا تھا۔ پریانکا کے علاوہ ہالی ووڈ اداکار زک ایفرون، ڈیوئن جانسن، پامیلا اینڈریسن اور الیگزینڈراڈیڈریو بھی فلم میں نظرآئے تھے۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.