چیف جسٹس نے عاصمہ قتل کیس کا ازخود نوٹس لے لیا

چیف جسٹس ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس میڈیا رپورٹس پر لیا۔ فوٹو،فائل اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مردان میں 4 سالہ بچی عاصمہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کا ازخود نوٹس لے لیا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ضلع مردان میں 4 سالہ بچی عاصمہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخواہ سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس میڈیا رپورٹس پر لیا۔اس خبرکوبھی پڑھیں: مردان میں 4 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتلدوسری جانب ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی اشرف طاہر نے عاصمہ کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے عاصمہ کے خون، ناخن اور بالوں کے نمونے بھجوائے تھے، اس کے علاوہ عاصمہ کے کپڑے، جوتے اور گلاس کا لیب ٹیسٹ بھی کروایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلا مرحلہ ملزم کا ڈی این اے میچ کرنے کا ہے جب کہ عاصمہ کی ڈی این اے رپورٹ مردان پولیس کو بھجوادی گئی ہے۔15 جنوری کو لاپتہ ہونے والی 4 سالہ عاصمہ کی لاش کھیتوں سے ملی تھی جب کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اسما کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی، مردان کے ضلعی پولیس سربراہ میاں سعید کا کہنا تھا کہ ابتدائی طبی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بچی کو قتل کرنے سے قبل اس پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے جب کہ بچی کے جسم سے حاصل کیے گئے 2 نمونے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوادیے گئے تھے۔اس خبرکوبھی پڑھیں: اسما قتل کیس میں مزید 4 مشکوک افراد گرفتارواضح رہے کہ چند روز قبل خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں 4 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بیدردی سے قتل کردیا گیا تھا۔Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.