ڈیووس میں دنیا کے امیر اور بااثر ترین افراد کا میلہ

ڈیووس میں دنیا کے امیر اور بااثر ترین افراد کا میلہ

عالمی سیاست کی منڈی میں ہمہ وقت ایک عجیب سی افراتفری رہتی ہے۔ شور ہے کہ تھمتا ہی نہیں ۔ایک جانب ذرا سا سکون ہوتے ہی دوسری جانب ڈھول پِٹنے لگتا ہے۔اب دیکھیے! ڈیووس میں اشرافیہ کا میلہ سجنے کا ڈھول کتنی بری طرح سے پیٹا جا رہا ہے۔ جی ہاں! ہر سال کی طرح اب بھی، سوئزرلینڈ کی خوبصورت ترین سیرگاہ ڈیووس میں ورلڈاکنامک فورم کا سالانہ اجلاس جاری ہے، جس میں دنیا بھر کی با اثرترین شخصیات چار دنوں تک، اقوامِ عالم کے غموں میں ہلکان رہیں گی۔اس فورم میں دو سو کے لگ بھگ اجلاس ہوں گے، جن میں، بین الاقوامی سیاست، معیشت، غربت، ماحولیات اور تعلیم جیسے تمام اہم موضوعات پر، متاثرکن حد تک، زبانی جمع خرچ کیا جائے گا۔ یعنی ایک بار پھر اسٹیج سجے گا اور تالی بجے گی، مگر صد افسوس! سوئزرلینڈ کی اس دلکش تفریح گاہ کے باہردنیا کے سارے مسائل سانپ کی طرح پھنکارتے ہی رہ جائیں گے۔ جس وقت یہ سطریں پڑھی جارہی ہوں گی،اس وقت میلہ سج چکا ہوگا۔ورلڈ اکنامک فورم کے مشہور زمانہ سالانہ اجلاس کو دنیا کے دکھوں سے نہلا کر نکھارا جائے گا۔ بین الاقوامی میڈیا اس کی براہ راست کوریج میں پیش پیش ہوگا۔ دنیا کے ٹھوس مسائل پر ارب پتی بزنس مین اور طاقتور افراد اپنا اپنا راگ الاپیں گے، نام نہاد دکھ کے دریا میں غوطے کھائیں گے، بھاری بھرکم تقریریں کرتے ہوئے نئی معاشی اصلاحات متعارف کروائیں گے اور ان منصوبوں کو خود ہی سمندر برد کرتے ہوئے واپس اپنے اپنے وطن کو لوٹ جائیں گے۔انسان کی پیدا کردہ غربت اوردیگر سماجی مسائل کو قابوکرنا یقیناً انسان کے ہی بس میں ہے۔ اسی سوچ کے تحت 1971میں جرمن نژاد،کلاس شواب نے ورلڈ اکنامک فورم کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں اس کا نام یورپین مینجمنٹ فورم تھا۔ 1974میں پہلی بار اس میں اہم سیاسی رہنماؤں کو بھی مدعوکیا گیا۔ اس فورم پر عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بیشتر ملاقاتیں تاریخی قرار پائی ہیں، جیسے 1983میں جنوبی وشمالی کوریا کے وزراء اور مشرقی اور مغربی جرمنی کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی اس کانفرنس کی تیاریاں زورشور سے کی گئی ہیں۔ دنیا کے ایک سوسولہ ممالک سے ڈھائی ہزار مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔دو درجن سے زائد سربراہانِ مملکت کی شرکت بھی اس بار یقینی ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانس کے ایمانئیول میکرون، جرمن چانسلر انجیلا مارکل، برطانوی وزیر اعظم تھریسامے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت متعدد نام شامل ہیں۔ نریندر مودی کانفرنس سے افتتاحی جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ اختتامی خطاب فرمائیں گے۔ کانفرنس کا ایجنڈا بھی ہمیشہ کی طرح بھاری بھرکم ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کا یہ اجلاس، گیارہ ہزار باشندوں کی سرزمین ڈیووس پر، سرمایہ داروں کے لیے وقت سے پہلے ہی موسمِ بہار لے کر آجاتا ہے۔ یہ اجلاس دنیا کی سب سے مہنگی نیٹ ورکنگ تقریب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مختلف سیشنز کے علاوہ ڈنر، پارٹیاں ، نجی ملاقاتیں اور سیروسیاحت بھی اس کانفرنس کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہیں۔ اس تقریب کی کوریج کے لیے دنیا بھر سے پانچ سو صحافیوں کو اجازت نامے دیے گئے ہیں۔اس کانفرنس کا سب سے متنازع پہلو مہمانوں کی سکیورٹی کے نام پر ہونے والے بے مہار اخراجات ہیں۔ شرکاء کو ڈیووس میں وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے اور دنیا کے طاقتور ترین افراد کے تحفظ کے لیے اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا جاتا ہے۔ جگہ جگہ چیک پوائنٹس قائم کردیے جاتے ہیں۔ تقریب کے اہم ترین مقام کانگریس سینٹر سے لے کر ہوٹلوں تک، سب جگہ سراغ رساں آلات نصب کیے جاتے ہیں، مسلح محافظ چوکس رہتے ہیں، اس بار اسلامی شدت پسند تنظیموں کی طرف سے لاحق زیادہ خطرات کے پیش نظر پانچ ہزار سپاہیوں کو حفاظت پر مامورکیا گیا ہے، جن کی وجہ سے ڈیووس ایک قلعے کا منظر پیش کررہا ہے۔سوئس حکومت سیکیورٹی کے ان انتظامات پر آٹھ ملین سوئس فرانک خرچ کرتی ہے مگر اس بار زیادہ بااثر افراد کی شرکت اور زیادہ سیکیورٹی رسک کے تحت نو ملین سوئس فرانک خرچ کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی یقین دلایا ہے کہ اگر شرکاء کے لیے سیکیورٹی رسک زیادہ ہوا تو وہ اس سے بھی زیادہ لاگت لگا کر ان کی جانوں کی حفاظت کرے گی۔ حیرت انگیز امر تو یہ ہے کہ غریب دنیا کے مسائل کا مداوا کرنے کے نام پر، وسائل کا بے دریغ ضیاع، اشرافیہ طبقے کی نظر میں کوئی جرم ہی شمار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ سوئس میڈیا اور عوام میں اب اس کانفرنس کے لیے ناپسندیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔عقل کے گھوڑے سرپٹ دوڑا کر بھی کوئی ایک مثال نہیں مل رہی جو بتاتی ہو کہ یہ عالی شان کانفرنسیں کبھی دنیا کے شانوں سے مصائب کا بوجھ کم کر نے میں کامیاب رہی ہوں۔ اب پھر پریشان دنیا کا سہانا خواب ہے کہ ڈیووس کانفرنس میں دنیا کے کرتا دھرتا غربت مٹانے کے لیے زمین آسمان ایک کردیں گے، ماحولیات کے مسئلے کو حل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے، معاشی اصلاحات کے تحائف سے غریبوں کے دَلّدر دورکر دیں گے، تعلیمی شعبے تک ہر ایک کی نارسائی رسائی میں تبدیل ہوجائے گی، لیکن افسوس ہر بارکی طرح اس بار بھی یہ سپنا کرچی کرچی کرکے آنکھوں میں ہی گھونپ دیا جائے گا۔یہ کانفرنس پھر ہائی پروفائل ملاقاتوں کے ایک نادر موقعے کے سوا کچھ بھی ثابت نہ ہو گی۔ انھی ملاقاتوں کی خاطر تو دنیا بھر کی نامور کمپنیاں لاکھوں ڈالر کے عوض ورلڈ اکنامک فورم کی ممبر شپ حاصل کرتی ہیں، جس کے باعث سرمایہ داروں کو کانفرنس کی صورت میں ہر سال ایک سنہرا موقع ہاتھ آتا ہے کہ وہ ان ریاستوں کے سربراہان سے تعلقات استوارکریں جہاں سے ان کے معاشی مفادات وابستہ ہیں۔یہی ایک اہم مقصد ہے جس کی تکمیل کے لیے وہ اخراجات چنداں اہمیت نہیں رکھتے جو اس کانفرنس کے انعقاد اور اس میں شرکت کے لیے اٹھائے جاتے ہیں ۔ لہٰذا ورلڈ اکنامک فورم سے دنیا کو مسائل کے حل کی امیدیں لگانے کے بجائے اسے محض ایک اعلیٰ سطح کی بزنس کانفرنس سے زیادہ کچھ نہیں گرداننا چاہیے، کیونکہ یہاں دنیا کے مسائل کو نہ سنا جاتا ہے نہ سمجھا جاتا ہے، بلکہ اجلاسوں میں، لب کشائی کی زحمت اٹھانے کے بعد کاروباری شریکوں اور خریداروں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اس کانفرنس کے کوئی ثمرات نظر ہی نہیں آسکے۔ایسی کانفرنس جس کے سماجی اثرات صفر ہوں، اس کے انعقاد پر اتنا ڈھول پیٹنا اور اتنی لاگت لگانا کہاں کی عقل مندی ہے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہوش وخرد سے کام لینے والے افراد اس کانفرنس کے دوران سراپا احتجاج ہوجاتے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر آکر شور مچاتے ہیں، چیخ چلا کرگلے سُجاتے ہیں، پولیس سے ڈنڈے کھاتے ہیں، پکڑکر بندکردیے جاتے ہیں، ان مظاہرین کو دنیا کے مسائل کے نام پر اشرافیہ کی یہ عیاشی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ڈیووس کی سڑکوں پر بھی ہر سال لوگوں کا احتجاج معمول بن چکا ہے۔ لیکن ان کی طرف سے آنکھیں اور کان بند کر لینے کا اشرافیہ طبقہ اب عادی ہوچکا ہے۔ عوام کی باتوں پر کان لگانے کے بجائے ان کو سیکیورٹی رسک قرار دے کر سختی سے روک دیا جاتا ہے اوراگر روکنے سے نہ رکیں تو سختی سے کچل دیا جاتا ہے۔’’شکستہ دنیا میں مشترکہ مستقبل کی تعمیر‘‘ اس سال کی ڈیووس کانفرنس کا موضوع ہے ۔ کانفرنس کے بعد مستقبل تو یقیناً بہتر ہوگا مگر صرف اشرافیہ طبقے کا ، تمام سرمایہ دارخوشی سے جھومیں گے، گلے ملیں گے، باقی دنیا شکستہ ہی رہ جائے گی، بلکہ شاید مزید شکستہ ہو جائے گی، کیونکہ اگر صرف تقریروں اور ڈسکشن سے ہی دنیا میں تبدیلی آنا ممکن ہوتی تو پھر رونا ہی کس بات کا تھا؟ سب سے اہم بات تو یہ کہ ناانصافی، بدعملی، عدم مساوات، ظلم ، تشدد، جنگیں اور معاشی استحصال کے جن عملی مظاہروں کے بعد دنیا سے سکون رخصت ہوا ہے وہ محض زبانی دعوؤں سے لوٹ کرکیسے آسکتا ہے؟ یوں یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے ہی پیدا کردہ مسائل کو حل کرنے سے خود قاصر ہے پھر بھی اسے اپنی ترقی پر نہ جانے کیوں اس قدر ناز ہے؟Let’s block ads! (Why?)

Comments are closed.