کراچی پولیس پر ایک اور ماورائے عدالت قتل کا الزام

موسیٰ کو 2 روز قبل باوردی پولیس اہلکاروں نے گھر سے حراست میں لیا اور آج لاش برآمد ہوگئی، بھائی کا الزام ۔ فوٹو : فائل کراچی: سپرہائی وے نادرن بائی پاس کے قریب ملنے والی تشدد شدہ لاش کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے پولیس نے ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔ایکسپریس نیوزکے مطابق شہریوں کی جانب سے کراچی پولیس پر ایک اور ماورائے عدالت قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سپرہائی وے نادرن بائی پاس کے قریب سے آج صبح ملنے والی تشدد زدہ لاش کی شناخت موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔ مقتول کے بھائی ابراہیم نے الزام عائد کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ ہم ضلع ملیر کے رہائشی ہیں، میرے بھائی موسیٰ اور عیسیٰ کپڑے کے تاجر ہیں اور دونوں کی جامع کلاتھ میں کپڑے کی دکان ہے،  2 روز قبل موسیٰ کو بڑے بھائی عیسیٰ کے ہمراہ باوردی اور سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے گھر سے حراست میں لیا تھا۔اس خبرکوبھی پڑھیں:  ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کی ترقیاںابراہیم کا کہنا ہے کہ  آج صبح اطلاع ملی کہ موسیٰ کی لاش برآمد ہوئی ہے، بھائی کی لاش قانونی کارروائی کے لئے عباسی شہید اسپتال لائی گئی تاہم ایم ایل او کی غیر موجودگی کے باعث سول اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں انکشاف ہوا ہے کہ موسیٰ کو تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے۔  میرے بھائی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے اور جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔اس خبرکوبھی پڑھیں: نقیب اللہ کا ماورائے عدالت قتلLet’s block ads! (Why?)

Comments are closed.